پرانے زمانے میں یعنی ہمارے دور میں ہی طلباء کو اخلاقی و دینی سبق دینے کا بہت اچھا رواج تھا آج کل بچوں کے کردار کو دیکھ کر شبہ ہونے لگتا ہے کہ اب اس قسم کی تربیت کا فقدان ہے۔ جو باتیں، نصیحتیں، ہدایتیں اس وقت بچپن میں بتائی جاتی تھیں وہ آج بھی دل پر نقش ہیں اور اگر آج بھی کوئی غلط بات منہ سے نکلے یا غلط کام کرنے لگیں تو خود بخود ضمیر جاگ اُٹھتا ہے اور وہ کام نہیں کرتے۔ بچپن میں ڈپٹی نذیر احمد، افسر میرٹھی وغیرہ کی نظمیں کردار کی تعمیر کے لئے اکسیر تھیں۔ افسر میرٹھی نے اپنی ایک نظم میں ایک ضعیف عورت کے بارے میں بیان کیا ہے جس نے ڈاکوؤں کے ہاتھوں اپنے نوجوان بیٹے کی ہلاکت کی شکایت سلطان محمود غزنوی سے کی۔ محمود غزنوی نے عذر پیش کیا کہ وہ علاقہ بہت دور دراز تھا اور اس پر مکمل نگرانی ناممکن تھی۔ بوڑھی عورت نے فوراً جواب دیاقبضہ ہی تو نے دور کے ملکوں پہ کیوں کیا
ہے جبکہ تیرے دور کے ملکوں میں ابتری
اور پھر کہا:
محفوظ جب نہیں ہے رعایا کا جان و مال
کس روز کام آئے گی تیری دلاوری
سلطان محمود بہت شرمندہ ہوا اور اس سے معافی مانگ کر حکم دیا:
اس پیرزن کی جھولی جواہر سے پُر کرو
غزنی کے پادشاہ پہ ہے اس کو برتری
خلفائے راشدین اپنے دور میں کسی جانور کے بھوکے رہ جانے کا خود کو ذمہ دار سمجھتے تھے۔ حضرت عمر نے فرمایا تھا کہ اگر بغداد میں دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک سے ہلاک ہوا تو وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو جوابدہ ہوں گے۔ اب ہمارے حکمرانوں کا دور دیکھئے نہ جان و مال محفوظ ہے اور نہ ہی امن و امان قائم ہے۔ اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ، جبری قبضہ، گھروں، بینکوں میں ڈکیتیاں روزمرہ کا معمول ہے، پولیس بالکل ناکامیاب اور بے اثر رہی ہے۔
بلوچستان میں قتل و غارت گری، امن و امان کے فقدان اور لوگوں کے اغوا اور گمشدگی کے بارے میں چیف جسٹس آف پاکستان نے بار بار احکامات صادر کئے ہیں مگر بے سود، نہ ہی پولیس اور نہ ہی رینجرز کوئی کارکردگی دکھا رہے ہیں اور عموماً یہ لوگ عدالت میں حاضر نہیں ہوتے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے آئندہ الیکشن میں نئی قیادت کو ووٹ دلائے تو ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کو یہ اختیار دے دیا جائے گا کہ اگر کسی افسر نے حکم عدولی کی تو اسی وقت برخاست، تمام مراعات ختم اور کم از کم تین سال قید بامشقت۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان اسلام آباد میں زیادہ رہتے ہیں، لوگ ان کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ اسی طرح کراچی اور پشاور کے حالات سے ہم سب واقف ہیں۔ ایک صاحب کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ چرس سے غم دوراں دور کرتے ہیں اور دوسرے صاحب مشروب بھنگ سے۔ پچھلے دنوں کراچی گیا تھا وہاں ایک نہایت ہی باعزت وباوقار شخصیت نے بتایا کہ بھنگ پینے والے صاحب اندرون صوبہ گئے تھے واپسی میں گاڑی میں جام چلتے رہے اور کچھ دیر میں اثر رنگ دکھانے لگا۔ اچانک ساتھی کا بازور پکڑ کر گھبرا کر کہا…یہ پولیس والے ہمارا کیوں پیچھا کررہے ہیں جلد نکل چلو، یہ ایسکورٹ کی گاڑیاں تھیں۔ آپ کو علم ہونا چاہئے کہ بھنگ پی کر انسان بے حد بزدل ہوجاتا ہے۔
مختصراً یہ عرض ہے کہ حکومت کے دعوؤں، عدلیہ کی سرزنش اور دھمکیوں کے باوجود حالات اسی طرح بگڑے ہوئے ہیں، جرائم میں قطعی کمی نہیں آرہی ہے بلکہ اب تو مجرم و دہشت گرد پولیس، رینجرز اور فوجیوں کو بھی تختہٴ مشق بنا رہے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اتحادی جماعتیں اپنے حلوہ پوری کی خاطر ان جرائم اور حکومت کی نااہلی کے خلاف زبان نہیں کھولتے۔ ان کو چھوڑیئے ہمارے دوست عمران خان کی ساری توپیں پنجاب پر مرکوز ہیں۔ ان سے کبھی پی پی پی، اے این پی، ایم کیو ایم کے بارے میں کوئی تنقید نہیں سننے میں آرہی ہے۔ جیسا کہ لاتعداد لوگوں نے مجھ سے خدشہ ظاہر کیا ہے، نوازشریف کی شکست و کمزوری کا واحد فائدہ مند زرداری ہوگا اور ہم پھر آئندہ پانچ سال یہی مناظر دیکھتے رہیں گے۔ فاروق ستار سے بھی درخواست ہے کہ جنوبی پنجاب کی بجائے اپنے گھر کی فکر کریں جس میں آگ لگی ہوئی ہے۔ جنوبی پنجاب کے عوام کو اپنے مسائل حل کرنے دیں وہاں کے لوگ باشعور ہیں اور اپنا اچھا برا خود سمجھتے ہیں۔ فاروق ستارکو شاہ سے زیادہ وفاداری کا مظاہرہ کرنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ آپ بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، قتل و غارت گری، سڑکوں پر ہونے والے جرائم کی روک تھام کریں کہ آپ حکومت میں ہیں کراچی آپ کا گڑھ ہے،آپ کا مرکز ہے۔
پچھلے ہفتہ چند ضروری کاموں سے کراچی گیا اور حسب معمول اپنی پیاری چھوٹی بہن کے پاس محمد علی ہاؤسنگ سوسائٹی میں ٹھہرا۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے بے حد محبت کرتے ہیں اور جب میں باہر تھا تب بھی اپنی بیگم اور بچیوں کے ساتھ آکر ہمیشہ ان کے ساتھ ٹھہرتا تھا۔ ان کی میری طرح دو بہت پیاری بیٹیاں ہیں اور انگلینڈ اور امریکہ سے تعلیم یافتہ ہیں۔ میری دونوں بیٹیوں نے انگلینڈ میں تعلیم حاصل کی ہے۔ بہن کے گھر کے اعلیٰ و لذیز کھانے کراچی کے دوستوں میں بے حد عزیز ہیں۔ بھوپال میں مغلیہ اور دکنی کھانے مقبول ہیں کیونکہ مغلوں کی آمد سے پہلے اس علاقے پر نظام دکن کا اثر و رسوخ تھا بعد میں مغلوں کی آمد سے مغلیہ کھانے بھی عام ہوگئے۔ الحمدللہ ان کے دستر خوان پر کبھی کمی پیش نہیں آئی، سات آٹھ قسم کے لذیز کھانے ضرور ہوتے ہیں۔
عرض یہ کرنا چاہ رہا تھا کہ کراچی میں بہت مصروف وقت گزرا، عزیز دوست و مشہور صنعت کار اشتیاق بیگ نے گھر پر کھانادیا، وقت8 بجے کا تھا مگر نہایت سخت بارش کی وجہ سے تمام سڑکیں بند تھیں ہم بمشکل رات9.30 پر وہاں پہنچے۔ یہ DHA میں Phase V میں پیر صاحب پگارا کے بنگلہ کے قریب رہتے ہیں۔ وہاں ملک کے اہم ترین، مشہور صنعت کار موجود تھے جن میں ملک کی تمام چیمبرز آف کامرس اور انڈسٹریز کی فیڈریشن کے صدر طارق سعید، ایس ایم منیر، سردار یٰسین ملک، میاں زاہد، میاں ارشد فاروق صاحبان وغیرہ موجود تھے۔ رسمی استقبالیہ تقریروں کے بعد مجھ سے درخواست کی گئی کہ میں اپنی تحریک تحفظ پاکستان کے اغراض و مقاصد بیان کروں، میں نے چند سادہ الفاظ میں بتادیا کہ ملک کو بچانے کے لئے ووٹروں کو نصیحت کررہے ہیں کہ پاک دامن، پڑھے لکھے، ہنرمند، تجربہ کار، آزاد امیدوار کھڑے کریں اور اس ملک کو نئی قیادت دے کر اس کو بچائیں۔ سب نے اس کو بے حد پسند کیا اور طارق سعید صاحب اور دوسرے صنعت کاروں اور معززین نے عہد کیا کہ وہ اس نیک کام میں میرے ساتھ ہیں اور عملی طور پر کھل کر مدد کریں گے۔ وہاں محترم مفتی نعیم صاحب سربراہ مدرسہ بنوریہ بھی موجود تھے انہوں نے بھی غیرمشروط مدد کا وعدہ کیا اور مجھے دعوت دی کہ جلد کراچی آؤں تاکہ تمام علماء کو بلا کر آپ کی حمایت کا اعلان کریں گے۔ الحمدللہ نہایت ہی خوش آئند ابتدا ہے۔
دوسرے روز ہمدرد یونیورسٹی کی چانسلر محترمہ سعدیہ راشد کی جانب سے ریٹائر ہونے والے چانسلر اور میرے عزیز اور محترم دوست ایس ایم ظفر کے اعزاز میں ڈنر دیا گیا وہاں بھی تمام اساتذہ، ماہرین تعلیم اور معززین شہر نے میری جدوجہد کو بہت سراہا اور پوری مدد کا وعدہ کیا۔ تیسرے دن میں سہ پہر محترم جناب پیر صاحب پگاڑا سے ملنے اور ان کے مرحوم والد اور میرے نہایت مشفق دوست کی رحلت پر تعزیت کرنے گیا۔ پیر صاحب بے حد خلوص و محبت سے ملے سب کو بتایا کہ میں ان کے والد محترم کا دوست ہوں اور میری اور میرے ساتھیوں کی خوب خاطر مدارت کی۔ انہوں نے بھی تحریک کی مکمل حمایت کا یقین دلایا اور مجھے پیر جو گوٹھ آنے کی دعوت دی جو میں نے دل سے قبول کی اور اب انشاء اللہ جلد جاؤں گا۔ اسی روز رات کو نہایت ہی عزیز بھوپالی دوست سینیٹر عبدالحسیب خان نے گھر پر ڈنر کیا، شہر کے معززین اس میں شامل تھے اور سب نے آکر مجھے اور میری جدوجہد کو سراہا اور پوری مدد کا وعدہ کیا، یہ نہایت اُمید افزا پیشرفت ہے۔
اس وقت چونکہ ملک اور نہ ہی جان و مال محفوظ ہیں میں پھر تمام پاکستانیوں سے درخواست کروں گا کہ خدا کے واسطے اس پیارے ملک کو بچانے کی خاطر اپنے ووٹ کی اہمیت اور اس کے تقدس کا احساس کریں، اچھے، ایماندار، ہنرمند، پاک دامن نمائندے الیکشن میں کھڑے کریں۔ میں آپ کا ساتھ دوں گا، میرے محب وطن ساتھی آپ کی مدد کریں گے۔ یاد رکھئے کہ آزمائے لوگوں کو آزمانا عقلمندی نہیں ہے۔ فارسی ضرب المثل ہے۔
آزمودہ را آزمودن جہل است
یعنی آزمائے ہوؤں کو آزمانا جہالت ہے۔
اس وقت چونکہ ملک اور نہ ہی جان و مال محفوظ ہیں میں پھر تمام پاکستانیوں سے درخواست کروں گا کہ خدا کے واسطے اس پیارے ملک کو بچانے کی خاطر اپنے ووٹ کی اہمیت اور اس کے تقدس کا احساس کریں، اچھے، ایماندار، ہنرمند، پاک دامن نمائندے الیکشن میں کھڑے کریں۔ میں آپ کا ساتھ دوں گا، میرے محب وطن ساتھی آپ کی مدد کریں گے۔ یاد رکھئے کہ آزمائے لوگوں کو آزمانا عقلمندی نہیں ہے۔ فارسی ضرب المثل ہے۔
آزمودہ را آزمودن جہل است
یعنی آزمائے ہوؤں کو آزمانا جہالت ہے۔
مختصراً یہ عرض ہے کہ حکومت کے دعوؤں، عدلیہ کی سرزنش اور دھمکیوں کے باوجود حالات اسی طرح بگڑے ہوئے ہیں، جرائم میں قطعی کمی نہیں آرہی ہے بلکہ اب تو مجرم و دہشت گرد پولیس، رینجرز اور فوجیوں کو بھی تختہٴ مشق بنا رہے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اتحادی جماعتیں اپنے حلوہ پوری کی خاطر ان جرائم اور حکومت کی نااہلی کے خلاف زبان نہیں کھولتے۔ ان کو چھوڑیئے ہمارے دوست عمران خان کی ساری توپیں پنجاب پر مرکوز ہیں۔ ان سے کبھی پی پی پی، اے این پی، ایم کیو ایم کے بارے میں کوئی تنقید نہیں سننے میں آرہی ہے۔ جیسا کہ لاتعداد لوگوں نے مجھ سے خدشہ ظاہر کیا ہے، نوازشریف کی شکست و کمزوری کا واحد فائدہ مند زرداری ہوگا اور ہم پھر آئندہ پانچ سال یہی مناظر دیکھتے رہیں گے۔ فاروق ستار سے بھی درخواست ہے کہ جنوبی پنجاب کی بجائے اپنے گھر کی فکر کریں جس میں آگ لگی ہوئی ہے۔ جنوبی پنجاب کے عوام کو اپنے مسائل حل کرنے دیں وہاں کے لوگ باشعور ہیں اور اپنا اچھا برا خود سمجھتے ہیں۔ فاروق ستارکو شاہ سے زیادہ وفاداری کا مظاہرہ کرنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ آپ بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، قتل و غارت گری، سڑکوں پر ہونے والے جرائم کی روک تھام کریں کہ آپ حکومت میں ہیں کراچی آپ کا گڑھ ہے،آپ کا مرکز ہے۔
ReplyDelete