GIKI

GIKI
INSTU

Wednesday, February 27, 2013

ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور جماعت اسلامی نے آئندہ الیکشن مل کر لڑنے کا


سلام آباد (نوائے وقت رپورٹ + آئی این پی) ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور جماعت اسلامی نے آئندہ الیکشن مل کر لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں پہنچ کر ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ کریں گے۔ اسلام آباد میں انتخابی اتحاد کے اعلان کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کہنا تھا کہ جس ملک کا دفاع مضبوط بنایا وہ آج تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ سب مل جل کر ملک کو کھا رہے ہیں۔ آج حکمران مالدار اور عوام غریب تر ہو گئے ہیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سید منور حسن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمشن نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل نہیں کیا۔ کراچی میں ووٹر لسٹوں کا عمل ہائی جیک ہو گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخابات کے شیڈول کا جلد اعلان کیا جائے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا کہ میں ملک بچانے کے لئے میدان میں نکلا ہوں اور موجودہ حالات میں بھی گھر بیٹھا رہتا تو یہ بڑا جرم ہوتا، دونوں رہنماوں نے حکومت سے الیکشن شیڈول کا جلد اعلان کرنے اور نگران حکومت قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ڈاکٹر قدیر نے امیر جماعت اسلامی منور حسن کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب منعقد کی۔ تقریب میں دونوں رہنماوں کی آمد پر شرکا نے صدر پاکستان ڈاکٹر خان اور روشن تیرا نام منور کے پرجوش نعرے لگائے۔

Friday, February 22, 2013

ڈاکٹر خان کی سیاست میں اینٹری


برطانوی اخبار’گارجین‘ کا کہنا ہے کہ پاکستانی جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی ایک سیاسی تحریک کا آغاز کردیا ہے جس کا مقصد نوجوانوں کے ووٹ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے کیو نکہ پاکستان انتخابات کی طرف جا رہاہے۔

ڈاکٹر خان کی سیاست میں اینٹری نے مغرب میں بہت سوں کے لئے خطرے کی گھنٹیاں بجادی ہیں۔اخبار ڈاکٹر قدیر کے حوالے سے لکھتا ہے کہ انہیں پاکستان میں ایک ہیرو کا درجہ حاصل ہے جبکہ مذہبی طبقہ اسلامی بم بنانے پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہے۔

ڈاکٹر خان نے اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی کے ووٹ کے استعمال کو یقینی بنانا چاہتے ہیں تاکہ وہ گھر میں نہ بیٹھیں بلکہ روایتی سیاست کے خلاف ووٹ دیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کو نئی نسل کے سیاستدان اور ٹیکنو کریٹس چاہئیں۔

انہوں نے نوجوان ووٹرز کو پیغام دیا کہ وہ پرانی طرز سیاست کو واپس نہ آنے دیں۔ وہ اپنا ووٹ چوروں اور جھوٹوں کو نہ دیں بلکہ انہیں اپنا ووٹ دیں جو اس کا صحیح حق دار ہو۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت تحریک تحفظ پاکستان کا مقصد نوجوان ووٹرز کو آگاہی دینا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ اس وقت انتخابات میں حصہ لینے کی ان کی کوئی منصوبہ بندی نہیں تاہم ان کی سیاسی تنظیم کا مزید ارتقائے خدا کے ہاتھ میں ہے۔وہ تبدیلی کا پیغام دینے کے لئے یونیورسٹیوں کا دورہ کریں گے اور وکلا و دیگر پرفیشنلز سے بات کریں گے۔

اخبار کے مطابق عام انتخابات مارچ میں متوقع ہیں تاہم رواں موسم خزاں میں بھی اس کے انعقاد کاامکان ہے۔ روایتی طور پر دو بڑی سیاسی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) مدمقابل ہوں گی تاہم عمران خان ایک مضبوط چیلنج کے طور پر سامنے آنے کی توقع کی جارہی ہے لیکن اے کیو خان نے کہا کہ کرکٹ کے لیجنڈ نے پرانے چہروں سے پارٹی کشش کو ختم کردیا ہے۔

Thursday, February 21, 2013

GREEN HANDS POWER: ڈاکٹر عبدالقدیر خان

GREEN HANDS POWER: ڈاکٹر عبدالقدیر خان: ::شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک ڈاکٹر عبدالقدیر خان کیا پوچھے ہے مجھ سے میری خاموشی کا باعث کچھ تو سبب ایسا ہے ۔۔۔۔۔۔ کہ میں کچھ نہ...

ڈاکٹر عبدالقدیر خان

::شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
ڈاکٹر عبدالقدیر خان

کیا پوچھے ہے مجھ سے میری خاموشی کا باعث
کچھ تو سبب ایسا ہے ۔۔۔۔۔۔ کہ میں کچھ نہیں کہتا

جب میں 1961ء میں اعلیٰ تعلیم کے لئے برلن کی مشہور ترین ٹیکنیکل یونیورسٹی میں تعلیم کے لئے روانہ ہونے لگا تو میں نے سوچا کہ جرمنی کے حالات سے پاکستانی عوام خاص کر طلبہ کو مطلع کروں گا۔ اس وقت روزنامہ جنگ کا دفتر کراچی برنس روڈ پر تھا۔ میں کالج کے دوران (ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج) ہمیشہ اس دفتر کے سامنے سے گزرتا تھا میں پہنچ گیا کہ یہاں میر خلیل الرحمن صاحب سے ملاقات کرلوں اور ان کا مشورہ حاصل کرلوں۔ اس وقت تقی صاحب ایڈیٹر ہوا کرتے تھے انہوں نے فوراً میر صاحب سے ملاقات کرا دی۔ نام سنا تھا اب ذاتی طور پر شناسائی ہوگئی۔ میر صاحب خوبصورت، بارعب شخصیت کے مالک تھے درازقد تھے اور ان کی ذہانت ان کی کشادہ پیشانی سے صاف عیاں تھی۔ انہوں نے نہایت خلوص سے ملاقات کی اور میری تجویز کو بہت پسند کیا اور کہا کہ میں ضرور برلن سے جنگ کے قارئین کو وہاں سے مطلع کروں اور اس طرح میں جرمنی کے لئے روانہ ہوگیا۔ 

برلن اس وقت مشرق و مغرب کی سیاسی کشمکش کا اکھاڑہ تھا صرف 10 دن پیشتر مشرقی برلن (یعنی مشرقی کمیونسٹ جرمنی نے) دیوار کھڑی کردی تھی لاتعداد جرمن کمیونسٹوں سے جان چھڑا کر مغربی برلن بھاگ رہے تھے اور روز کئی VOPOS یعنی مشرقی برلن کی ملیشیا کی گولیوں کا شکار بن رہے تھے اوپر روسی مگ جہاز دن بھر ساؤنڈ بیریر توڑ رہے تھے میرا ہوسٹل برانڈین برگر ٹور یعنی گیٹ سے 15 منٹ کے فاصلہ پر تھا اور وکٹری کالم کے بالکل قریب تھے۔

میں نے وہاں سے روزنامہ جنگ کو ”مکتوب برلن“ کے نام سے مراسلہ جات بھیجنا شروع کردیئے جو جنگ میں باقاعدگی سے شائع ہونے لگے یہ سلسلہ دو سال جاری رہا اور میں نے جنگ میں ہی یہ پیش گوئی کی تھی کہ اس وقت کے برلن کے میئر جناب ولی برانٹ ایک روز یقیناً جرمنی کے چانسلر بن جائیں گے اور وہ چند سال بعد بن گئے۔ 1963ء کے اواخر میں برلن سے میں ہالینڈ میں ڈیلنٹ کی مشہور ٹیکنیکل یونیورسٹی چلا گیا اور مکتوب برلن لکھنا بند کردیا۔
حالات حاضرہ کی وجہ سے میں نے سوچا کہ کیوں نہ پھر طبع آزمائی کی جائے اور ملک کے اہم موضوعات پر کچھ لکھا جائے۔ مجھے لکھنے کا ہمیشہ سے شوق ہے اور کوئی اہم بات ہو تو ضرور لکھ ڈالتا ہوں، بس عادت ہے 

چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی
مطلب یہ نہیں کہ عوام میرے خیالات و جذبات سے ناواقف ہیں 
میں چپ بیٹھا ہوا ہوں اور یہ معلوم ہوتا ہے
کہ جیسے اک زمانہ کہہ رہا ہے داستاں میری
دیکھئے جب بھی کوئی شخص کسی اخبار میں مضامین لکھنا شروع کرتا ہے تو لوگ اس کا مقصد یا اس کا سبب تلاش کرنے لگتے ہیں 
گماں اگر تمہیں کچھ ہو تو ہو مگر ہم کو
سکون ملتا ہے روداد غم سنانے سے

ہم سب جانتے ہیں کہ خیر و شر کا تضاد ہمیشہ سے دنیا میں رہا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ اس بارے میں خبردار کیا ہے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مجھے شرپسندوں اور ظالموں کے شر سے محفوظ رکھ۔ بعض خودغرض، غاصب لوگ خالصتاً ذاتی مفاد کے لئے عوام کے مفادات کو پیروں تلے روند ڈالتے ہیں۔ طاقت کا نشہ انہیں مدہوش کردیتا ہے اور نعوذباللہ وہ اللہ کے وجود اور قوت سے بھی منکر ہو جاتے ہیں۔ مشرف کی مثال آپ کے سامنے موجود ہے 

ہر دور میں انسان نے ڈھائے ہیں مظالم
ہر دور میں انسان خدا بنتا رہا ہے

لیکن نعوذباللہ خدا بننے کے گھمنڈ میں انسان خدا نہیں بن جاتا حالانکہ وہ اکثر خدا کی موجودگی کو بھول جاتا ہے 

ظالموں نے سمجھ یہ رکھا ہے
جیسے دنیا میں اب خدا ہی نہیں

ناخدا کو خدا کا رتبہ دینے میں ہماری بیورو کریسی اور خوشامدیوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ مشرف صرف ایف اے پاس تھا جو ہم عموماً چپراسی کے طور پر بھرتی کرتے ہیں ایک غلط طریقہ ترقی سے ہمارا سپہ سالار بن گیا اور ہمیں یہ دیکھ کر قے آتی تھی کہ یہ کم عقل نہایت تعلیم یافتہ لوگوں کو اور ماہرین کو، معاشیات، تعلیم، خارجہ، زراعت، صنعت پر سامنے بٹھا کر لیکچر دیا کرتا تھا اور وہ اس کے آگے گردن ہلا ہلا کر واہ واہ کیا کرتے تھے ایک عقلمند ذی فہم حکمراں (یا ڈکٹیٹر) کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ اپنے رفقائے کار چاپلوسی کی بنیاد پر نہیں چنتا بلکہ ان کی مہارت اور علم کی بنیاد پر ان کے مشوروں کو سنتا ہے اور ان کو اہم پروجیکٹس کی تکمیل کے لئے تمام مدد مہیا کرتا ہے۔ مشرف کے بارے میں افواہ گشت کرتی رہتی تھی کہ وہ اپنے فوجی ساتھیوں سے شکایت کرتا تھا کہ ”مجھے دکھ اور پریشانی ہوتی ہے کہ اگر کم پڑھ یا جاہل لوگ میری بات نہیں سمجھتے تو کوئی بات نہیں مگر پڑھے لکھے لوگ میری بات نہیں سمجھتے۔“ وجہ آپ پر عیاں ہے۔ بندوق کی لبلبی دبانے اور عقل و فہم کی بات کرنے میں فرق صاف ظاہر ہے۔

خودغرض اور موقع پرست لوگ ایسے حکمرانوں کی جھوٹی تعریف میں قلابے ملا دیتے ہیں اور اس کو افلاطون بنا دیتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ان حرکتوں سے ملک کی بنیادیں کھوکھلی کردیتے ہیں۔ یہ لوگ ہٹلر اور اس کے وزیر پروپیگنڈہ کے طریق کار پر عمل کر کے اتنا جھوٹ بولتے ہیں کہ حکمراں اس کو سچ ماننے لگتا ہے اور اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے لگتا ہے۔ نتائج ملک کی تباہی کی شکل میں نکلتے ہیں اسی قسم کا ایک جھوٹ مجیب الرحمن نے بولا تھا کہ جوٹ کی قیمت فروخت سے حاصل کردہ رقم سے مغربی پاکستان والوں نے کراچی کی فٹ پاتھیں سونے کی اینٹوں سے سجائی تھیں۔ جھوٹ بڑا تھا فوراً قبول ہوگیا۔

میں دسمبر کے چوتھے ہفتہ میں کرسمس کے موقع پر پاکستان آیا تھا۔ یہ 1975ء کی بات ہے یعنی تقریباً 33 سال پہلے۔ میں بھٹو صاحب کی درخواست پر آیا تھا اور بیگم، دونوں بیٹیاں (7 سال اور 1/2 5 سال) اور مجھے 15 جنوری کو واپس جانا تھا۔ بھٹو صاحب کی مخلصانہ درخواست اور وطن کے مفادات کی خاطر ہم نے ایک لمحہ بھی تامل نہیں کیا اور بہترین کیریئر، بڑی تنخواہ اور اعلیٰ سہولتیں چھوڑ کر رک گئے۔ یہاں پہلی تنخواہ 3 ہزار روپے چھ ماہ بعد ملی نہ ہی حکومت نے کچھ پیشکش کی

عجب نعمت عطا کی ہے خدا نے اہل عزت کو
عجب یہ لوگ ہیں غم کھا کے دل کو شاد کرتے ہیں

ملک کے نام نہاد ماہر سائنسدانوں نے بھٹو صاحب اور غلام اسحاق خان صاحب کے کان بھرے کہ یہ نوجوان انجان چھوکرا آپ کو بے وقوف بنانے آیا ہے چند دن کھائے گا پیئے گا اور راستہ لے گا۔ انہوں نے اس ٹیکنالوجی کی پیچیدگیاں اور مشکلات بتائیں اور یہ بھی کہ دنیا کے صرف تین نہایت ترقی یافتہ ممالک یعنی ہالینڈ، جرمنی اور انگلینڈ اس میں مہارت رکھتے ہیں اور انہوں نے یہ مہارت 20 سال کی محنت اور تقریباً 2/ارب ڈالر خرچ کر کے حاصل کی ہے۔ بھٹو صاحب اورغلام اسحاق خان صاحب اصحاب بصیرت تھے۔ انہیں میری راست گوئی پر قطعی شک نہ تھا اور نہ ہی میں نے کوئی غلط بات ان سے کہی۔ مجھ سے بعض لوگوں نے کہا کہ ان سے کہہ دوں تین سال میں ایٹم بم بنا دیں گے۔

میں نے جھوٹ بولنے سے انکار کردیا وہ اس بیان بازی پر اپنی خارجہ پالیسی کا تعین کرتے اور پھر منہ کی کھانا پڑتی اور چند مشہور سائنسدانوں نے یہ ارادہ کیا کہ کسی غار میں 2 یا 3 ہزار ٹن آتشی مادہ رکھ کر اور اس میں کوئی تابکاری مادہ رکھ کر دھماکا کردیں اور بھٹو صاحب کو تسکین ہو جائے گی اور ان کا جنون ختم ہو جائے گا۔ دیکھئے سیاستدان اگر جھوٹ بولیں تو یہ ان کا پیشہ ہے اوروہ بے شرمی سے اپنے پیشے کی پریکٹس عام سیدھے سادے عوام پر کرتے رہتے ہیں لیکن ہم سائنسدانوں اور انجینئروں پر یہ فرض ہے کہ اپنے پیشے اور ضمیر کا لحاظ رکھ کر ہمیشہ سچ بولیں۔ میں نے تو ہمیشہ اسی اصول پر کام کیا اور کبھی غلط بیانی سے کام نہیں لیا 

صادق ہوں اپنے قول میں غالب خدا گواہ
کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے

عرض مدعا یہ ہے کہ میں نے اپنے رفقائے کار کے ساتھ مل کر ناممکن کو ممکن کردیا اور صرف 8 سال کے قلیل عرصہ میں اور نہایت خطیر رقم خرچ کر کے اس پسماندہ ملک کو ایک ایٹمی قوت بنا دیا۔ بھٹو صاحب، غلام اسحاق خان اور جنرل ضیاء الحق نے بلا خوف و خطر پوری مدد دی۔ 

نیک نیتی اور صدق دل و محنت سے جو کام بھی کیا جائے اللہ تعالیٰ یقیناً کامیابی عطا کرتا ہے۔ محترمہ بے نظیر صاحبہ کی مدد سے یہ ملک ایک میزائل قوت بنا۔ میری درخواست پر انہوں نے مجھے چین اور شمالی کوریا سے میزائل پروگرام حاصل کرنے اور شروع کرنے کی اجازت دی اس میں جنرل مرزا اسلم بیگ اور جنرل عبدالوحید کاکڑ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اگر لاتعداد خودغرض، راشی، ضمیر فروش اس ملک کو بھوکے بھیڑیوں کی طرح کھانے میں لگے ہوئے ہیں مگر پھر بھی بہت سے مخلص، دیندار اور اہل ہنر دل و جان سے خدمت کر کے اس وطن عزیز کو آہستہ آہستہ ترقی کی راہ پر گامزن رکھے ہوئے ہیں۔ ہم انشاء اللہ ان لوگوں کی مدد سے اس ملک کو ایک ترقی یافتہ، فلاحی اسلامی مملکت بنا دیں گے۔

میں اپنی زندگی کا بیشتر بلکہ تقریباً تمام حصہ گزار چکا ہوں۔ جب اپنی زندگی پر نظر ڈالتا ہوں تو سکون و اطمینان قلب ہوتا ہے کہ میں نے اپنی بساط کے مطابق اپنے وطن عزیز کی خدمت کردی۔ میں نے اپنے ملک پر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ اس بڑے احسان کا جو اس ملک نے مجھ پر کیا ہے ، تھوڑا بہت حصہ ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں نے تقریباً 15 سال یورپ میں اعلیٰ تعلیم اور فنی مہارت حاصل کی اور میں اس کو ملک کے مزید اہم کاموں کے لئے استعمال کرنا چاہتا تھا۔ 1999ء میں میں نے سیارہ فضا میں چھوڑنے کی تجویز پیش کی مگر اس ایف اے پاس ڈکٹیٹر نے منظور نہیں کی۔ 

بہرحال مجھے وطن عزیز کی خدمت پر فخر ہے میں نے ایٹمی، میزائل قوت مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ لاتعداد تعلیمی و فلاحی ادارے قائم کئے ہیں اور خیبر سے گوادر لوگوں کے دلوں میں جو میری محبت ہے وہ میرا سب سے بڑا انعام ہے۔ ایک ذلیل، غدار غیرملکی ایجنٹ نے صدارت کا خول پہن کر مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کی مگر اپنے مکروہ ارادے میں ناکام رہا اور خود سخت ذلیل و خوار ہو کر ایوان صدر سے نکالا گیا اب یہ خود ساختہ کمانڈو زندگی بھر اس ملک کی سڑک پر قدم نہیں رکھ سکتا۔ عوام اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے چیل و کوؤں کو کھلا دیں گے۔ میرا تعلق تو سترہ کروڑ عوام سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اور مجھے وطن عزیز کی خدمت سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ہمارے سامنے ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی قربانی کی سنہری مثالیں موجود ہیں۔ انہوں نے جان دے دی مگر ملک کا سودا نہیں کیا اور زندہ جاوید ہوگئے۔ یہی وجہ ”سحر ہونے تک“ کے موضوع سے گاہے بگاہے اپنے خیالات کا اظہار کرنا ہے یعنی ۔۔۔۔!!

”شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک“


تحریر: ڈاکٹر عبدالقدیر خان

پ

Pakistan Education News


لاہور: اسلام آباد میں پیرس کے بنے سوٹ پہننے والے ڈاکو بیٹھے ہیں , محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان

لاہور: اسلام آباد میں پیرس کے بنے سوٹ پہننے والے ڈاکو بیٹھے ہیں , محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان 

لاہور(پین) محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا ہے کہ ملک کے 47فیصد نوجوان ووٹ کے ذریعے ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں اور ایک اچھی ،مخلص اور محب وطن قیادت کے ذریعے ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے ملک کا دفاع ناقابل تسخیر ہے اور اب کسی کو بھی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات بھی نہیں ہو سکتی ۔اگر کوئی ایک ایٹم بم چلانے کی کوشش کرے گا تو ہم اب دس ایٹم بم چلائیں گے ۔مغربی پروپیگینڈہ بے بنیاد ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام محفوظ نہیں ۔جو ایٹم بم بنانا جانتے ہیں وہ اس کی حفاظت کرنا بھی جانتے ہیں۔

یہ ایٹم بم ہے کوئی مذاق نہیںیا بچوں کا کھیل نہیں ۔نوجوان نسل ووٹ کی اہمیت کو سمجھے ۔الیکشن والے دن سونے یا پکنک منانے کی بجائے مخلص ،ایماندار ،محب وطن ،تعلیم یافتہ نمائندگان کو ووٹ کاسٹ کریں ۔یہ باتیں انہوں نے گزشتہ روز سپیر ئیر یونیورسٹی میں طلبہ و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہیں ۔اس موقع پر پروفیسر چوہدری عبدالخالق ،ریکٹر یونیورسٹی ڈاکٹر ظفر اقبال ،سربراہ و ڈین شعبہ ابلاغیات پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ ،ڈین فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر فاروق اسلام ،پرنسپل عذرانا ہید میڈیکل کالج ڈاکٹر چوہدری اکبر ،سابق ایم این اے خورشید زمان ،عمران ملک ،فیکلٹی ممبران ،اساتذہ سمیت طلبہ و طالبات ،سٹاف کی ایک بہت بری تعداد موجود تھی ۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے طلبہ وطالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جعلی ڈگریوں کو کوئی پوچھنے ولا نہیں ۔سپریم کورٹ کسی کی ڈگری جعلی قرار دیتی ہے وہ دوبار ہ پیلے سے زیادہ ووٹوں سے منتخب ہو جاتا ہے ۔ایک فیصد حکمران ٹولہ نے 99فیصد عوام کو یر غمال بنایا ہوا ہے ۔اسلام آباد میں چور ڈاکو بیٹھے ہوئے ہیں جو پیرس کے سوٹ پہنتے ہیں 15،15گاڑیوں کے ساتھ گھومتے ہیں ۔ایماندار قیادت کی ضرورت ہے ایک اچھا شخص بھی تبدیلی لا سکتا ہے ۔پوری قوم سدھر سکتی ہے ۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا جیسے شہاب الدین غوری نے پرتھوی اور ہندوؤں کا سر کچلا تھا ایسے ہی جب انڈیا نے پرتھوی میزائل کا تجربہ کیا

تو ہم اس کے مقابلے میں غوری میزائل داغے ۔میزائل کے تجربوں کے دوران اس وقت میں نے نواز شریف سے کہا تھا کہ اس میزائل کا نام صرف غوری ہی ہو گا۔انہوں نے کہا کہ یہاں اتنی بے روز گاری ہے کہ کسی کوئی مداری ولا تماشہ لگا لے تو سینکڑوں لوگ جمع ہو جاتے ہیں وینا ملک بھی مینار پاکستان پر50،60ہزار افراد اکٹھے کر سکی ہے ۔انہوں نے کہا ووٹ اچھے افراد کو کاسٹ کریں ۔متوالوں جیالوں کے بجائے سوچ سمجھ کور ووٹ کاسٹ کریں ۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ انہیں یہاں سپیرئیر یونیورسٹی میں آکر خوشگوار حیر ت ہوئی کہ ان کے پرانے ساتھی سپیر ئیر یونیورسٹی کے ریکٹر ہے ۔

سپیر ئیر یونیورسٹی اور اس کی انتظامیہ مبارکباد کی مستحق ہے کہ وہ فروغ تعلیم کے لیے اپنی خدمات پیش کر رہی ہے ۔اس سے قبل رکٹر یونیورسٹی ڈاکٹر ظفر اقبال نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر نہ صرف ایٹمی سائنس دان اور محسن پاکستان ہیں بلکہ شریف النفس مسلمان ہیں ،بہت اچھے منتظم ہیں ۔ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ۔یہ میر ی خوش قسمتی ہے ۔وہ رفاہ عامہ کے کام میں بھی خصوصی دلچسپی لیتے ہیں ۔ڈاکٹر قدیر ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں ۔اللہ تعالی ان کو اپنی حفظ و امان میں رکھے صحت و سلامتی دے ۔انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے کہ ڈاکٹر قدیر نے سپیرئیر یونیورسٹی میں طلبہ سے خطاب کیا اور نوجوانوں نے اپنے قومی ہیرو کو براہ راست دیکھا۔

انہوں نے اس موقع پر سپیرئیر یونیورسٹی خواب سے تعبیر تک کا مختصر احوال بھی پیش کیا ۔انہوں نے کہا کہ سپیرئیر یونیورسٹی کو اس مقام تک پہنچانے میں چیئر مین سپیر ئیر گروپ آف کالجز چودھری عبدالرحمن کی خدمات ناقابل فراموش ہیں اور اس کا کریڈٹ ان کو جاتا ہے ۔پروفیسر عبدالخالق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپیرئیر گروپ آف کالجز کے لاکھوں طلبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں میڈیکل ،انجینئرنگ ،کامرس ،اکاؤنٹینسی اور بزنس کے میدان میں ملک کا نام روشن کر رہے ہیں ۔

سربراہ شعبہ ابلاغیات سپیر ئیر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کی سپیرئیر یونیورسٹی میں آمد ہمارے لئے بہت بڑا اعزاز ہے ۔پوری قوم کو ڈاکٹر قدیر پر فخر ہے ۔محسن پاکستان کے ساتھ ڈکٹیٹر نے جو سلوک کیا اس پر قوم ان سے معافی مانگتی ہے ۔اس موقع پر تحریک تحفظ پاکستان کے رہنما سید ظہیر علی گیلانی نے ایک نظم بھی پیش کی۔
 Pakistan Education News

ممشاز: ڈاکٹر قدیر کی سیاسی پارٹی کی رجسٹریشن

ممشاز: ڈاکٹر قدیر کی سیاسی پارٹی کی رجسٹریشن: پاکستان میں ایٹمی بم کے معمار قرار دیے جانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی نئی سیاسی جماعت کو باقاعدہ طور پر رجسٹر کروا دیا ہے تاکہ آ...

محسن پاکستان ڈکٹر عبدالقدیر خان

1.       
السلام علیکم
جناب منظور قاضی صاحب ، میں آپ کا بیحد مشکور ہوں کہ آپ نے یہ نہایت ہی عمدہ اور حقیقت پر مبنی بلاگ شروع کیا ، اللہ آپ کو اِس کی جزا عطا فرنائے ۔ آمین ۔
محترمین محفل ، میں آپ سب کا مشکور ہوں کہ آپ نے اِس خوبصورت بلاگ پر نہایت ہی خوبصورت تبصرے کیے ۔ آپ سب نے جس محبت اور خلوص سے محسن پاکستان کو خراج عقیدت پیش کیا ہے وہ میرے لیے مشعل راہ ہے اور اِس کے لیے میں آپ سب کو سلام پیش کرتا ہوں ۔
اللہ جسے جائے عزت دے اور جسے چاہے ذلت ۔ دیکھ لیجئے ، آج پرویز مشرف کہاں ہے اور محسن پاکستان کہاں ہیں ، مجھے یقین ہے کہ ہم لوگ بحیثیت ایک قوم مختلف ٹولیوں میں ضرور بٹے ہوئے ہیں ، ہم میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی سیاسی و مسلکی انا کا بت اپنے کندھوں پر بھی اُٹھا رکھا ہے مگر محسن پاکستان کی شخصیت اور اُن کی محبت میں پوری قوم متحد ہے اور قیامت تک رہے گی ، خدا تعالی نے جو مقام اُنہیں دے دیا ہے وہ اب اُن سے قیامت تک کوئی مشرف ، کوئی زرداری نہیں چھین سکتا، اب یہی دیکھ لیجئے کہ ہم سب جو عالمی اخبار کی فیملی کا حصہ ہیں اور مختلف ممالک میں بستے ہیں اکثر موضوعات پر یکسر مختلف نکتہ ِ نظر رکھتے ہیں مگر ہم سب بھی محسن پاکستان کی محبت اور عقیدت میں ایک ہی مقام پر کھڑے ہیں ۔
کچھ دن پہلے جیو کے ایک پروگرام میں دس بارہ سال کی ایک بچی ( جس نے اپنی کلاس میں ٹاپ کیا تھا ) کا انٹرویو دکھا رہے تھے جب اُس سے پوچھا گیا کہ وہ بڑی ہو کر کیا بننا چاہتی ہے تو اُس کا جواب ( میرے لیے باعثِ حیرت مگر ) نہایت ہی خوبصورت اور دلکش تھا ۔ بچی نے جواب دیا ’’ میں پاکستان کے لیے ایک اور ڈکٹر عبدالقدیر خان بننا چاہتی ہوں ‘‘
اب اِس سے بڑا ثبوت کیا ہو کہ کہ ’’ اللہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے ‘‘ میری قوم کے بچے بھی محسن پاکستان کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں کیا یہ کسی نوبل پرائز سے کم ہے ، بلکہ خود نوبل پرائز کی اہمیت اِس ایک جملے کے سامنے کچھ بھی نہیں رہی ، حکمرانوں کی تو شاید کچھ مجبوریاں رہتی ہوں جو وہ یوں اپنے محسنوں کی بے قدری کرتے ہیں مگر عوام کی تو کوئی مجبوری نہیں ہے کوئی بھی چیز اُنہیں محسنِ پاکستان سے دلی اور والہانہ محبت سے نہیں روک سکتی ۔
آخر میں میرا بھی آپ سب کے ساتھ یہی نعرہ ہے ۔
محسن پاکستان ۔ زندہ باد ، پاکستان ۔ پائیندہ باد ۔
عالمی اخبار اور اُس کا یہ بلاگ اور اِس بلاگ کے سارے محترم تبصرہ بگار ۔ زندہ باد ، پائیندہ باد ۔
آصف احمد بھٹی