ڈاکٹر قدیر خان کا بم اور مشرف کا مکا
آج اگر اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان کو کوئی بچا سکتا ہے آج اگر بکھری ہوئی قوم کو کوئی یکجا کر سکتا ہے ۔ آج اگر کوئی امن ، اتحاد ، بھائی چارہ اور ملکی مسائل کا حل نکال سکتا ہے تو وہ صرف اور صرف کوئی عظیم لیڈر ہی ہو سکتا ہے اور اس کیلئے ڈاکٹر قدیر خان سے بہتر کوئی شخصیت نہیں ۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی تحریک کا نام تحریک تحفظ پاکستان رکھا اور الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن کی درخواست بھی جمع کروا چکے ہیں ۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے ڈاکٹر خان کو اپنی جماعتوں میں شامل کرکے سیاسی غلام بنانا اور ان کا نام کیش کرکے سیاسی ساکھ بحال کرنے کی مذموم کوششیں کیں مگر ڈاکٹر خان نے اپنی تحریک بنانے کا فیصلہ کیا بلکہ یہ کہا جائے کہ انہوں نے کسی بھی جماعت اور لیڈر کو اپنا لیڈر بنانے کے بجائے خود قوم سے رجوع کا فیصلہ کیا جو بلاشبہ وقت کی ضرورت اور مادر وطن کی پکار بھی ہے کیونکہ سیاسی گراس ملک کو نوچ نوچ کر ختم کررہے ہیں ۔ وطن عزیز کو نئے لیڈروں کی ضرورت ہے نئے خون کی ضرورت ہے ۔

No comments:
Post a Comment