پاکستان کا اسلامی بم تحریر حسین خان
ٹوکیو
ایک
خود دار قوم کی ایسی ہی سوچ ہونی چاہیے۔ کمیونسٹ چین کے بانی ماؤزے تنگ نے کہا تھا
کہ خواہ آدھے چین کو موت کے گھاٹ اترنا پڑے، ہم ضرور ایٹم بم بناکر رہیں گے۔
پاکستان کااسلامی بم
تحریر: حسین خاں ۔ٹوکیو
(پہلی قسط)
تحریر: حسین خاں ۔ٹوکیو
(پہلی قسط)
وزیرِ آعظم ذولفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ ہمیں خواہ گھاس
کھانی پڑے انڈیا کے مقابلہ میں پاکستان کے دفاع کے لیے ہم بھی ایٹم بم بنا
کر ہی دم لیں گے
ذولفقار علی بھٹو نے ہالینڈ سے ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کو
پاکستان بلاکرانھیں یہ پروجیکٹ سپرد کیا تھا۔
سزائے مو ت کی کوٹھڑی میں ہر گناہگار سے گناہگار آدمی کو بھی
اپنی نیکیاں یاد آتی ہیں۔ اسی کوٹھڑی سے اپنی آخری یادداشتوں میں سے انھوں نے ایک
یہ بات بھی لکھی تھی:
’’ ہمیں پتہ ہے کہ اسرائیل اور جنوبی آفریقہ کے پاس ایٹم بم بنانے کی پوری صلاحیت اور ٹکنالوجی موجود ہے ۔عیسائی ‘ یہودی اور ہندو تہذیب کے پاس بھی اس کی پوری صلاحیت ہے۔ کمیونسٹ طاقتوں کے پاس بھی یہ ٹیکنالوجی ہے۔ صرف اسلامی تہذیب اس سے عاری تھی ‘لیکن اب اس پوزیشن میں تبدیلی آ نے والی ہے۔‘‘ (ذوالفقار علی بھٹو)
اس لیے پاکستان کے بم کو اسلامی بم کہنے کاسہرا بھی لوگ ذوالفقار علی بھٹو کے سر ہی باندھتے ہیں۔
’’ ہمیں پتہ ہے کہ اسرائیل اور جنوبی آفریقہ کے پاس ایٹم بم بنانے کی پوری صلاحیت اور ٹکنالوجی موجود ہے ۔عیسائی ‘ یہودی اور ہندو تہذیب کے پاس بھی اس کی پوری صلاحیت ہے۔ کمیونسٹ طاقتوں کے پاس بھی یہ ٹیکنالوجی ہے۔ صرف اسلامی تہذیب اس سے عاری تھی ‘لیکن اب اس پوزیشن میں تبدیلی آ نے والی ہے۔‘‘ (ذوالفقار علی بھٹو)
اس لیے پاکستان کے بم کو اسلامی بم کہنے کاسہرا بھی لوگ ذوالفقار علی بھٹو کے سر ہی باندھتے ہیں۔
ایک
خود دار قوم کی ایسی ہی سوچ ہونی چاہیے۔ کمیونسٹ چین کے بانی ماؤزے تنگ نے کہا تھا
کہ خواہ آدھے چین کو موت کے گھاٹ اترنا پڑے، ہم ضرور ایٹم بم بناکر رہیں گے۔
خدا
کا شکر ہے کہ اتنی بڑی قربانی دیے بغیر ہی ہمیں اللہ نے ایک ایٹمی طاقت بنادیا اور
ہمیں ہمارے دشمنوں سے بچے رہنے کی سبیل ادا کردی۔اللہ تعالیٰ نے اپنے اس احسانِ
عظیم کا ذکر سورۃ قریش میں ان الفاظ میں کیا ہے:
وَ اٰمَنَھُم مِن خَوف (قریش۔آخری آیت)
اور خوف سے بچاکرامن عطا کیا
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی انتھک اور بے لوث کاوشوں اورنواز شریف کے ایٹمی دھماکوں کے بعد اب پاکستان کا بچہ بچہ اس خوف سے نجات پاگیا ہے کہ آئندہ کبھی بھی انڈیا حملہ کرکے ہماری جان و مال کو کوئی نقصان پہنچاسکے گا یا ہمارے ملک کا کوئی حصہ ہم سے چھین سکے گا۔یہ ہم پر اللہ کی کرم نوازی ہے کہ اس نے ہم کو
’’خوف سے بچاکر امن عطاکیا‘‘
(جاری ہے۔ دوسری قسط انشاء اللہ کل ملاحظہ فرمائیے)
وَ اٰمَنَھُم مِن خَوف (قریش۔آخری آیت)
اور خوف سے بچاکرامن عطا کیا
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی انتھک اور بے لوث کاوشوں اورنواز شریف کے ایٹمی دھماکوں کے بعد اب پاکستان کا بچہ بچہ اس خوف سے نجات پاگیا ہے کہ آئندہ کبھی بھی انڈیا حملہ کرکے ہماری جان و مال کو کوئی نقصان پہنچاسکے گا یا ہمارے ملک کا کوئی حصہ ہم سے چھین سکے گا۔یہ ہم پر اللہ کی کرم نوازی ہے کہ اس نے ہم کو
’’خوف سے بچاکر امن عطاکیا‘‘
(جاری ہے۔ دوسری قسط انشاء اللہ کل ملاحظہ فرمائیے)
.jpg)
No comments:
Post a Comment