1.
السلام علیکم
جناب منظور قاضی صاحب ، میں آپ کا بیحد مشکور ہوں کہ آپ نے یہ نہایت ہی عمدہ اور حقیقت پر مبنی بلاگ شروع کیا ، اللہ آپ کو اِس کی جزا عطا فرنائے ۔ آمین ۔
محترمین محفل ، میں آپ سب کا مشکور ہوں کہ آپ نے اِس خوبصورت بلاگ پر نہایت ہی خوبصورت تبصرے کیے ۔ آپ سب نے جس محبت اور خلوص سے محسن پاکستان کو خراج عقیدت پیش کیا ہے وہ میرے لیے مشعل راہ ہے اور اِس کے لیے میں آپ سب کو سلام پیش کرتا ہوں ۔
اللہ جسے جائے عزت دے اور جسے چاہے ذلت ۔ دیکھ لیجئے ، آج پرویز مشرف کہاں ہے اور محسن پاکستان کہاں ہیں ، مجھے یقین ہے کہ ہم لوگ بحیثیت ایک قوم مختلف ٹولیوں میں ضرور بٹے ہوئے ہیں ، ہم میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی سیاسی و مسلکی انا کا بت اپنے کندھوں پر بھی اُٹھا رکھا ہے مگر محسن پاکستان کی شخصیت اور اُن کی محبت میں پوری قوم متحد ہے اور قیامت تک رہے گی ، خدا تعالی نے جو مقام اُنہیں دے دیا ہے وہ اب اُن سے قیامت تک کوئی مشرف ، کوئی زرداری نہیں چھین سکتا، اب یہی دیکھ لیجئے کہ ہم سب جو عالمی اخبار کی فیملی کا حصہ ہیں اور مختلف ممالک میں بستے ہیں اکثر موضوعات پر یکسر مختلف نکتہ ِ نظر رکھتے ہیں مگر ہم سب بھی محسن پاکستان کی محبت اور عقیدت میں ایک ہی مقام پر کھڑے ہیں ۔
کچھ دن پہلے جیو کے ایک پروگرام میں دس بارہ سال کی ایک بچی ( جس نے اپنی کلاس میں ٹاپ کیا تھا ) کا انٹرویو دکھا رہے تھے جب اُس سے پوچھا گیا کہ وہ بڑی ہو کر کیا بننا چاہتی ہے تو اُس کا جواب ( میرے لیے باعثِ حیرت مگر ) نہایت ہی خوبصورت اور دلکش تھا ۔ بچی نے جواب دیا ’’ میں پاکستان کے لیے ایک اور ڈکٹر عبدالقدیر خان بننا چاہتی ہوں ‘‘
اب اِس سے بڑا ثبوت کیا ہو کہ کہ ’’ اللہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے ‘‘ میری قوم کے بچے بھی محسن پاکستان کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں کیا یہ کسی نوبل پرائز سے کم ہے ، بلکہ خود نوبل پرائز کی اہمیت اِس ایک جملے کے سامنے کچھ بھی نہیں رہی ، حکمرانوں کی تو شاید کچھ مجبوریاں رہتی ہوں جو وہ یوں اپنے محسنوں کی بے قدری کرتے ہیں مگر عوام کی تو کوئی مجبوری نہیں ہے کوئی بھی چیز اُنہیں محسنِ پاکستان سے دلی اور والہانہ محبت سے نہیں روک سکتی ۔
آخر میں میرا بھی آپ سب کے ساتھ یہی نعرہ ہے ۔
محسن پاکستان ۔ زندہ باد ، پاکستان ۔ پائیندہ باد ۔
عالمی اخبار اور اُس کا یہ بلاگ اور اِس بلاگ کے سارے محترم تبصرہ بگار ۔ زندہ باد ، پائیندہ باد ۔
آصف احمد بھٹی
جناب منظور قاضی صاحب ، میں آپ کا بیحد مشکور ہوں کہ آپ نے یہ نہایت ہی عمدہ اور حقیقت پر مبنی بلاگ شروع کیا ، اللہ آپ کو اِس کی جزا عطا فرنائے ۔ آمین ۔
محترمین محفل ، میں آپ سب کا مشکور ہوں کہ آپ نے اِس خوبصورت بلاگ پر نہایت ہی خوبصورت تبصرے کیے ۔ آپ سب نے جس محبت اور خلوص سے محسن پاکستان کو خراج عقیدت پیش کیا ہے وہ میرے لیے مشعل راہ ہے اور اِس کے لیے میں آپ سب کو سلام پیش کرتا ہوں ۔
اللہ جسے جائے عزت دے اور جسے چاہے ذلت ۔ دیکھ لیجئے ، آج پرویز مشرف کہاں ہے اور محسن پاکستان کہاں ہیں ، مجھے یقین ہے کہ ہم لوگ بحیثیت ایک قوم مختلف ٹولیوں میں ضرور بٹے ہوئے ہیں ، ہم میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی سیاسی و مسلکی انا کا بت اپنے کندھوں پر بھی اُٹھا رکھا ہے مگر محسن پاکستان کی شخصیت اور اُن کی محبت میں پوری قوم متحد ہے اور قیامت تک رہے گی ، خدا تعالی نے جو مقام اُنہیں دے دیا ہے وہ اب اُن سے قیامت تک کوئی مشرف ، کوئی زرداری نہیں چھین سکتا، اب یہی دیکھ لیجئے کہ ہم سب جو عالمی اخبار کی فیملی کا حصہ ہیں اور مختلف ممالک میں بستے ہیں اکثر موضوعات پر یکسر مختلف نکتہ ِ نظر رکھتے ہیں مگر ہم سب بھی محسن پاکستان کی محبت اور عقیدت میں ایک ہی مقام پر کھڑے ہیں ۔
کچھ دن پہلے جیو کے ایک پروگرام میں دس بارہ سال کی ایک بچی ( جس نے اپنی کلاس میں ٹاپ کیا تھا ) کا انٹرویو دکھا رہے تھے جب اُس سے پوچھا گیا کہ وہ بڑی ہو کر کیا بننا چاہتی ہے تو اُس کا جواب ( میرے لیے باعثِ حیرت مگر ) نہایت ہی خوبصورت اور دلکش تھا ۔ بچی نے جواب دیا ’’ میں پاکستان کے لیے ایک اور ڈکٹر عبدالقدیر خان بننا چاہتی ہوں ‘‘
اب اِس سے بڑا ثبوت کیا ہو کہ کہ ’’ اللہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے ‘‘ میری قوم کے بچے بھی محسن پاکستان کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں کیا یہ کسی نوبل پرائز سے کم ہے ، بلکہ خود نوبل پرائز کی اہمیت اِس ایک جملے کے سامنے کچھ بھی نہیں رہی ، حکمرانوں کی تو شاید کچھ مجبوریاں رہتی ہوں جو وہ یوں اپنے محسنوں کی بے قدری کرتے ہیں مگر عوام کی تو کوئی مجبوری نہیں ہے کوئی بھی چیز اُنہیں محسنِ پاکستان سے دلی اور والہانہ محبت سے نہیں روک سکتی ۔
آخر میں میرا بھی آپ سب کے ساتھ یہی نعرہ ہے ۔
محسن پاکستان ۔ زندہ باد ، پاکستان ۔ پائیندہ باد ۔
عالمی اخبار اور اُس کا یہ بلاگ اور اِس بلاگ کے سارے محترم تبصرہ بگار ۔ زندہ باد ، پائیندہ باد ۔
آصف احمد بھٹی
No comments:
Post a Comment